ڈاکٹر پرویز ہود بھائی جیو نیوز پر

Sunday, January 15, 2006
posted by Noumaan

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی آج شام آٹھ بجے جیو کے پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کے سوالوں کے جوابات دینگے۔ ڈاکٹر صاحب قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں نیوکلئیر فزکس پڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موصوف ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ درس و تدریس، تعلیمی نصاب، حقوق انسانی، مذہب اور ریاست کے دائرہ اختیار کا تعین، سائنسی علوم کی ترقی اور پاکستان کے خارجی اور داخلی مسائل پر بہت کام کر چکے ہیں۔ کئی ڈاکومنٹری فلمز بنا چکے ہیں، حکومت پاکستان کی سفارش پر نصاب تعلیم میں بہتری اور خامیوں کی نشاندہی پر کی گئی تحقیقات میں پیش پیش رہے ہیں۔ نیوکلیائی توانائی کے بطور اسلحہ استعمال کرنے کے سخت مخالف ہیں اور مذہبی انتہاپسندی کو انسانیت کی فلاح کے لئیے خطرناک جانتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اور کئی انگریزی روزناموں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سائنس کو پاپولر بنانے کے لئیے پاپولر سائنس کی بدیسی کتابیں اردو میں ترجمہ کرکے شائع کروانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ

آج کے پروگرام کی جو جھلک ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے اس میں میزبان افتخار احمد ڈاکٹر صاحب کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور مذہب اور ریاست کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے جوابات سننے کے لائق ہونگے۔ اس کے علاوہ مذہب اور سائنس کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔ یہ پروگرام رات آٹھ بجے اور دوبارہ رات ایک بجے جیو نیوز سے نشر کیا جائے گا۔

موضوعات: سائنس تعلیم پاکستان

وقت میں سفر

Saturday, December 03, 2005
posted by Noumaan

the time machine movie posterجب میں چھوٹا تھا تو ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا این ٹی ایم۔ اس چینل پر ایک مرتبہ بیک ٹو دی فیوچر (واپس مسقتبل کی طرف) دکھائی گئی۔ یہ مووی ایک ٹرائیلوجی ہے جس کے تین پارٹ تھے۔ بعد میں ہم نے یہ فلمیں ویڈیو پر بارہا دیکھیں اور ہر بار اتنا ہی مزہ آیا۔ مختصرا اس فلم کی کہانی یہ تھی ایک سائنسدان ایک ایسی کار بناتا ہے جو انسان کو وقت میں کہیں بھی لے جاسکتی ہے۔ ماضی مستقبل حال کہیں بھی۔ سائنسدان اس تجربے کے لئیے ایک نوجوان لڑکے کا انتخاب کرتا ہے اور اسے ماضی میں پہنچادیتا ہے۔

آپ سب یقینا ایسے قصے سن چکے ہونگے کہ جن میں کئی شخص کہیں جاتا ہے اور جب واپس آتا ہے تو اس کے سب رشتےدار جاننے والے مرگئے ہوتے ہیں اور وہ ابھی تک جوان ہوتا ہے۔ یا ایسے قصے کہ جن میں کوئی شخص ماضی میں یا مستقبل میں پہنچ گیا اور جب واپس آیا تو اس کی دنیا وہیں کی وہیں تھی۔ یا ایسے قصے کہ لوگ کسی دیوار کو پار کرکے ایک بالکل الگ دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان موضوعات پر سینکڑوں فلمیں، ناول، ڈرامے اور اشتہارت بن چکے ہیں۔ گرچہ جو کچھ ان فلموں میں دکھایا جاتا ہے وہ بالکل فرضی اور خیالی ہوتا ہے اور ان کا مقصد خالصتا تفریحی اور اصلاحی ہوتا ہے۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا انسان وقت میں سفر کرسکتا ہے؟ کیا انسان کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی یا مستقبل میں جاسکتے ہیں؟

آپ نے بڑے بوڑھوں کو اکثر کہتے سنا ہوگا کہ 'وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا'۔ زمانوں یا وقت میں سفر کے لئیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وقت کیا ہے۔ وقت کے بارے میں جو عمومی غلط فہمی پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم وقت کو یوں بیان کرتے ہیں کہ جیسے وقت گزرنے والی کوئی چیز ہے جو ایک مخصوص رفتار سے ہمارے ہاتھوں سے گزرتا جاتا ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ دراصل وقت ایک ایسی پوزیشن ہے جس میں ہم سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی وقت وہیں رہتا ہے ہم اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

اسے اس مثال سے سمجھئیے۔ فرض کیجئیے آپ ریل میں بیٹھ کر کراچی آرہے ہیں۔ ریل حیدرآباد پہنچتی ہے وہاں آپ ٹہرتے نہیں ہیں۔ اب کوئی آپ سے پوچھتا ہے کہ کونسا اسٹیشن آیا تھا تو آپ بتاتے ہیں کہ حیدرآباد کا اسٹیشن تھا۔ حیدرآباد کا اسٹیشن وہیں ہے آپ اسے چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ وقت کی مثال ایسے ہی اسٹیشنوں کی سی ہے۔ خلا میں وقت ایسا ہی ہے جیسے اسٹیشن۔ ہر اسٹیشن کائنات کے پھیلاؤ کی کسی نے کسی کیفیت میں موجود رہا ہے۔ یا یوں کہہ لیجئیے کہ وقت ایک خلا ہے جس میں ہم سفر کررہے ہیں۔

وقت کے نہ گزرنے کی ایک اور مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ جب ہم کوئی من پسند کام کررہے ہوتے ہیں تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا جبکہ جب ہم بوریت کا شکار ہوتے ہیں تو ایک ایک لمحہ طویل ہوجاتا ہے۔ یا آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہوگا کہ آجکل تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ اکثر جب شہر کے لوگ دیہات میں جاتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہاں وقت دیر سے کٹتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ گھڑیاں وہی وقت بتارہی ہوتی ہیں اور اسی رفتار سے اپنی حرکت جاری رکھے ہوتی ہیں۔ مشہور زمانہ سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے کہا تھا 'وقت فریب ہے'۔

آئن اسٹائن سے پہلے نیوٹن دنیا کو یہ بتا چکا تھا کہ موشن (حرکت) وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ اس نے بتایا کہ جو قوت ایک سیب کو درخت سے زمین کی طرف کھینچتی ہے وہی قوت ہماری زمین کی حرکت کا سبب ہے اور اسی سے مدو جزر آتے ہیں۔ لیکن نیوٹن یہ بتانے سے قاصر تھا کہ کیوں یہ کشش ثقل زیادہ فاصلوں پر وقفوں سے اثر انداز ہوتی ہے۔ نیوٹن کے مطابق وقت اور خلاء کی کوئی مقررہ ویلیو تھی۔ اس کے خیال میں وقت ایک فکسڈ (طے شدہ) اکائی ہے جسے کائنات میں موجود کسی ایک گھڑی کی تحت ناپا جاسکتا ہے۔ خلاء کے متعلق اس کا یہ نظریہ تھا کہ خلاء ایک لامحدود، فکسڈ، اور غیر متحرک معیار ہے۔

آئن اسٹائن کے نظریات اضافیت سے یہ باتیں غلط ثابت ہوجاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ وقت کی ایک کوئی ایک مخصوص رفتار، معیار یا سکوت کی کیفیت نہیں۔ یا یوں کہہ لیجئیے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ کہ خلا ایک محدود اور متحرک معیار ہے جو کہ وقت سے مطابقت رکھتا ہے یوں آئن اسٹائن ہمیں ایک اور معیار دیتا ہے جسے ہم اسپیس ٹائم کہتے ہیں۔ چونکہ ہمارے پاس فی الوقت ایسا کوئی معیار نہیں جس کی مدد سے وقت کو اسی طرح ناپا جاسکے جیسے ہم مادے کو ناپتے ہیں اور ایسی ہی صورتحال خلاء کے ساتھ بھی ہے جسے ہم کسی دوسرے اعداد و شمار کی مدد سے بیان نہیں کرسکتے۔

آئن اسٹائن کے نظرئیے کو آسانی سے سمجھنے کے لئیے یہ لنک دیکھئیے۔ یہ لنک آپکو نووا آن لائن کے ٹائم ٹریول ویب سائٹ پر ایک انٹرایکٹو فیچر کی طرف لے جاتا ہے۔ اس انٹرایکٹو فیچر کو مکمل کرنے کے بعد آپ نظریہ اضافیت کو کافی حد تک سمجھنے کے لائق ہوجائیں گے۔ آئندہ پوسٹ میں ہم ٹائم ٹریول پر مزید گفتگو کریں گے اور اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ ٹائم ٹریول کیونکر ممکن ہوسکتا ہے۔

موضوعات: سائنس، وقت، خلاء

بلاگر پر کیٹیگریز

Wednesday, November 30, 2005
posted by Noumaan

آخر کار ہم اپنے بلاگ پر کیٹیگریز شامل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کام ہم نے ڈیلیشیئس کے ذریعے انجام دیا۔ گرچہ ایسا کرنے سے اب ہمیں اپنی ہر پوسٹ کو لکھنے کے بعد اس کو کیٹیگرائز کرنا پڑے گا لیکن ڈیلیشئس کے براؤسر بٹنوں سے یہ کام بھی اتنا مشکل نہیں۔ ڈیلیشیئس کو یہاں شامل کرتے ہوئے ہمیں چند پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جو کہ درج ذیل ہیں:
  1. ڈیلیشیئس کا ٹیگ رول ہماری اسٹائل شیٹ کو ہائی جیک کرلیتا۔ جس کی وجہ سے مجھے سی ایس ایس میں کافی دیر تک تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ میری سی ایس ایس کی محدود معلومات کی وجہ سے یہ کام اور بھی کٹھن ہوگیا۔
  2. اردو فونٹ نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ میں ٹیکسٹ صحیح طرح رینڈر نہیں ہورہا تھا اسلئیے ہم ٹاہوما استعمال کر رہے ہیں۔
طریقہ کار:
  • ڈیلیشیئس پر جا کر اکاؤنٹ بنائیں۔
  • اپنے بلاگ کی کچھ پوسٹس کو ٹیگ کریں۔ اس کے لئیے آپ ڈیلیشیئس کے براؤسر بٹن بھی استعمال کرسکتے ہیں یا براہ راست ان کے فارم میں اپنی پوسٹ کا لنک دے کر بھی یہ کام کرسکتے ہیں۔
  • اب ڈیلیشیئس پر ہیلپ کے آپشن میں جاکر ٹیگ رول پر کلک کریں۔ اپنے ٹیگ رول کا نام منتخب کریں۔ اپنے بلاگ کے اسٹائل کے مطابق فونٹ کلر منتخب کریں۔ کلاؤڈ یا فہرست میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ ہم اپنے بلاگ پر فہرست کا استعمال کر رہے ہیں۔
  • کوڈ کو کاپی کرکے اپنے بلاگ پر پوسٹ کریں۔ پیش منظر دیکھیں مطمئن ہونے پر محفوظ کرلیں اور اپنا بلاگ ری پبلش کریں۔
موضوع: ، ،

ضرورت مشورہ

Tuesday, November 29, 2005
posted by Noumaan

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے بلاگ کے موضوعات میں کافی فرق ہے۔ ایک پوسٹ سائنس اور دو پوسٹس تاریخ اور پھر تاریخ کے مختلف ادوار۔ یہ سب الگ الگ موضوعات ہیں لیکن جس طرح ہم لکھ رہے ہیں ایسے یہ سب موضوعات ڈھونڈنا آگے جاکر مشکل ہوجائے گا۔ پڑھنے والوں کو یہ نہیں معلوم ہوسکے گا کہ ہم نے کسی ٹاپک پر کیا لکھا ہے تاوقتیکہ وہ ہمارے محفوظات نہ کھنگالیں یا اردو میں گوگل پر تلاش نہ کریں۔

ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا حل مل جائے جس کے تحت ہم اپنی پوسٹس کو ٹیگ لگا سکیں یا کیٹیگریز میں تقسیم کرسکیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکنوراٹی کے ٹیگ بلاگوں میں امتیاز نہیں کرتے۔ میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح بلاگر پر ہی کٹیگریز بنائی جائیں جو کہ سائیڈ بار میں نظر آسکیں اور یہ سب کچھ اردو میں ممکن ہوسکے۔ میں یہ بلاگ ورڈپریس کے فری ہوسٹ بلاگ سم پر شفٹ کرسکتا ہوں مگر مجھے بلاگ سم کی خدمات اتنی قابل بھروسہ محسوس نہیں ہوتیں جتنی کہ بلاگر کی۔

میرا زیادہ زور اس بات پر ہے کہ بلاگر میں ہی مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ مسئلہ ٹیگز یا کیٹیگریز کا نہیں بلکہ مضامین کو ترتیب سے محفوظ اور پیش کرنے کا ہے۔ اگر ٹیگز یا کیٹیگریز کے علاوہ بھی کوئی مناسب حل آپ کی نظر میں ہو تو ضرور بتائیں۔

اھرام

اہرام کی عمارات بہت سی قدیم تہذیبوں نے بنائیں۔ ان میں سے زیادہ شھرت مصر کے اہراموں کو ملی ہے اور یہ اہرام زیادہ بہتر حالت میں بھی ہیں۔ان اہراموں میں سب سے بڑا اھرام غزہ (مصر) میں ہے جسے عالمی شھرت حاصل ھے۔ یہ اہرام دنیا کے سات عجوبوں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ مکسیکو کے جنگلات میں بھی اہرام ھیں جو مایا قوم نے تعمیر کئیے۔ ان لوگوں نے اپنا طرز تحریر بنایا ھوا تھا اور ان لوگوں کو ریاضی میں بھی عبور حاصل تھا تاریخدانوں کے مطابق ان اھراموں میں بھت سے راز پوشیدہ ہیں۔ اکثر قدیم اقوام میں اھرام کو بطور عبادت گاہ استعمال کیا جاتا تھا۔

سب سے بڑا اہرام خوفو یا چیوپس نامی فرعون نے تعمیر کرایا۔ غزہ کہ یہ اہرام قاہرہ سے دس میل دور ہیں۔ نپولین کے ماہرین نے کہا تھا کہ ان تینوں اہراموں کے پتھروں کو استعمال کرکے پورے فرانس کے گرد دس فٹ اونچی اور ایک فٹ چوڑی دیوار تعمیر کی جاسکتی ہے۔ اس سے تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کی جسامت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
خوفو ۴۷۰۰ ق م کا واحد مصری حکمران تھا جس نے پچاس برس حکومت کی۔ اس کہ ہرم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر ٹھوس ہے۔ چھہ ھزار چھہ سو برس پرانی اس ساخت کی اتنی پائیدار اور مکمل نقل موجودہ دور میں بھی بنانا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ اوپر جاتے ہوئے پتھروں کا حجم کم ھوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ۴۸۱ فٹ کی بلندی پر صرف ایک سل دھرنے کی جگہ رہ جاتی ہے اہرام کی بیرونی طرف ایک زمانے تک ہموار اور چکنی تھی۔ لیکن بعد میں مکانوں کی تعمیر کے لیے ان خوبصورت پتھروں کو نکال لیا گیا۔یہ چونے کے پتھر تھے جو سورج کی روشنی میں خوب چمکتے تھے۔
اہرام میں جو پتھر استعمال ہوئے ان میں سے بعض تیس ٹن وزنی ہیں۔ اہرام کا مجموعی وزن 7 کڑوڑ ٹن ہے۔ ان وزنی سلوں کو جوڑنے کے لئے استعمال ھونے والا مسالہ اب تک نہیں بنایا جاسکا۔ کاریگروں نے اس خوبی سےسلوں کو جوڑا ہے کہ جوڑ دکہائی نہیں دیتا۔ اس اہرام کی کئی گز موٹی دیواروں میں بمشکل 0.0008 فیصد فرق پایا گیا ہے۔
کرینوں کے بغیر اتنی عمدہ تعمیر کیوں کرممکن ھوئی؟ھر پتھرکوسیٹ کرنےکےلیےاٹھانارکھنا باربار کس طرح ممکن ہوا؟
ہیروڈوٹس کا بیان تھا کہ ایک لاکھہ افراد ۲۰ برس تک مشقت کرتے رہے تب کہیں جاکر اہرام مکمل ہوا تھا۔ اتنے لوگ صحرا میں کھانا پینا کھاں سے حاصل کرتے تھے؟ ملکی معیشیت ایسا شاہی خرچ کس طرح برداشت کرتی تھی؟ کیا یہ لوگ غلام تھے
معلوم ھوا ہے کہ اہرام کی تعمیر غلاموں نے نہیں کی بلکہ وہ لوگ مزدور تھے، جنہیں گندم،لہسن اور دوسری اشیائے خوردنی کی شکل میں مزدوری دی جاتی تھی۔ جنانچہ ۱۹۷۱ میں آکسفورڈ کے ڈاکٹر کرٹ نے نظریہ پیش کیا کہ در حقیقت سیلاب کے زمانے میں بے روزگار مصریوں کو مصروف رکھنے کی خاطر یہ عمارت تعمیر کرائی گئی تاکہ انہیں مفت خوری کی عادت نا پڑے اور یہ عوامی بہبود کا ایک ذریعہ بنا رہے۔
جدید دور میں انسان معلومات اور یادگار اشیأ کو دھاتی بکسوں میں بند کرکے زمین میں دفن کردیتے ہیں تاکہ اگلی نسلیں انہیں کھود کر دریافت کرلیں اور اپنے اجداد کی ترقی سے اگاہ رہیں۔ ایسے بکسوں کو ٹائم کیپسول کہا جاتا ہے۔ بعض ماہرین غزہ کے اہرام کو بھی ایک ٹائم کیپسول کہتے رہے ہیں۔ جو قدیم تہذیبوں کے سنگم پر کھڑا آنے والے لوگوں کو ماضی کے مالکوں کی حیرت انگیز بصیرت کا احوال سناتا ہے۔
کیا قدیم انسانوں کے ذہن میں اجتماعی طور پر اہرام کی پراسرار شکل میں کوئی خاص اہمیت تھی؟

مایا فلکیات اور کلینڈر

Saturday, November 26, 2005
posted by Noumaan

مایا تہذیب کی فلکیات پر تحقیق:

مایا لوگ علم فلکیات میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور اس میدان میں انہوں نے قابل ذکر کام کیا۔ گرچہ ان کے بعض نظریات آج مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ ان تمام نظریات کی بنیاد وہ مشاہدات، تجربات اور شماریات ہیں جو مایا قوم نے انتہائی معمولی تکنیکی صلاحیت سے حاصل کئیے تو ان نظریات کی درستگی کافی حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے۔

مایا لوگ یہ مانتے تھی کہ زمین چپٹی ہے اور اس کے چار کونے ہیں ہر کونے کو ایک رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ مشرق لال، مغرب سیاہ، شمال سفید اور جنوب پیلا جبکہ مرکز ہرے رنگ سے ظاہر کیا جاتا تھا۔ ہر کونے پر ایک تیندوا (چیتے کی نسل کا ایک چھوٹا جانور جو اس علاقے میں پایا جاتا تھا) آسمان کو سہارا دئیے ہوئے تھا اور ان چیتوں کو باکاب کہا جاتا تھا۔ مایا لوگ یہ مانتے تھے کہ کائنات کی تیرہ پرتیں ہیں اور ہر پرت کا اپنا ایک الگ خدا ہے۔ ملکی وے کو مایا لوگ ایک اوپر اٹھتے ہوئے درخت کی مانند سمجھتے تھے۔

سیارہ زہرہ یا وینس کے مدار کے بارے میں ان کے اعداد و شمار حیرت انگیز حد تک درست ہیں۔ اس درستگی کا سبب انتہائی مشاقی کے ساتھ سالوں زہرہ کی نقل و حرکت اور اس کی پوزیشن اور سمت کی ریکارڈنگ اور مشاہدات ہیں۔ مایا لوگ زہرہ کو جنگوں کے خدا سے منسوب کرتے تھے اور شاہی حکام کو مملکت کے دفاعی منصوبوں اور جنگوں کے لئیے اس معلومات کی ضرورت ہوتی تھی۔ مایا ماہرین فلکیات زہرہ کے علاوہ مریخ، مشتری اور عطارو کا مشاہدہ بھی کرتے تھے۔

جس وقت پرانی دنیا میں ارمغان کے آرک بشپ اشر کائنات کی قدامت کی کلکولیشن چار ہزار سال قبل مسیح کر رہے تھے۔ اس وقت مایا لوگ یہ اندازہ لگا چکے تھے کی کائنات کم از کم نوے ملین سال پرانی ہے۔ فلک کے بارے میں ان کے پروہتوں نے بڑی عرق ریزی سے کام کیا اور انتہائی مہارت سے اجرام فلکی کے مشاہدات کئیے اور ان کی حرکات کے اعداد و شمار ریکارڈ کئیے۔ اس مہارت ہی کے نتیجے میں مایا کلینڈر وجود میں آیا۔

مایا کلینڈر:

مایا تہذیب کی سب سے زیادہ قابل ذکر ایجاد ان کا کلینڈر مانا جاتا ہے۔ مایا لوگ اپنے کلینڈر اور علم فلکیات کی مدد سے سورج اور چاند گرہن کی مکمل اور درست پیشنگوئی کرنے پر قادر تھے اس کے علاوہ وہ لوگ نظام شمسی کے دیگر سیاروں کا نہ صرف علم رکھتے تھے بلکہ ان کے مدار اور دائروں کو شمار کر کے ان کے طلوع ہونے اور نظر آنے کی پیشن گوئی بھی کرسکتے تھے۔

مایا لوگ ایک سے زیادہ قسم کے کلینڈر استعمال کرتے تھے۔ جن میں شمسی کلینڈر اور چاند کے کلینڈر شامل ہیں۔ جو شمسی کلینڈر ان کے پروہت استعمال کرتے تھے اس کی درستگی میں ایک دن کا دس ہزارویں حصے کا فرق ہے۔ یہ کیلکولیشن اس کلینڈر سے بھی زیادہ درست ہے جو آج ہم اپنے معیاری کلینڈر میں استعمال کرتے ہیں۔ مایا لوگوں کا ایک کلینڈر صرف سیارہ وینس کی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے اور ایک کلینڈر موسموں اور مذہبی رسومات کے دن بتانے کے لئیے ہے۔ یہ کلینڈر مایا قوم نے دیگر پری کولمبین قوموں اولمک اور ازٹک سے ادھار لئیے مگر انہیں نقطہ کمال پر پہنچادیا۔

مایا قوم کا شمسی کلینڈر ہاب کہلاتا تھا جس میں بیس بیس دن کے اٹھارہ مہینے ہوتے تھے۔ دن کو کین کہا جاتا تھا۔ (دیکھئیے تصویر نمبر ایک) اور سال کے آخر میں پانچ دن کا ایک مہینہ ہوتا تھا جسے واییب کہا جاتا تھا جس کا ترجمہ 'بےنام دن' ہوتا ہے۔ مایا لوگوں کے مہینوں کے نام موسموں یا ان کے مذہبی تہواروں کے حساب سے ہوتے تھے۔ جسے برسات کے ختم ہونے کا مہینہ سردی کا مہینہ خزاں کی آمد وغیرہ۔ مایا کلینڈر دنوں پر مشتمل ہوتا تھا اور تقریبا باون شمسی پھیروں یعنی باون سالوں بعد ایک نیا پھر شروع ہوتا تھا۔ یہ دن مایا لوگ بے چینی سے کاٹتے تھے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا تھا کہ خدا انہیں ایک اور پھیرا عطا کریں گے یا نہیں۔ اس طریقے کے مطابق ان کے تاریخ کے حساب درست رکھنا مشکل تھا اسلئیے طویل تاریخوں کو گننے کے لئیے وہ چند اور کیلکولیشنز استعمال کرتے تھے۔

تصویر نمبر ایک: مایا مہینے کے بیس دن۔

مایا لوگوں کے مطابق دنیا پانچ عہدوں میں بٹی ہوئی ہے اور مایا لوگ چوتھے عہد میں جی رہے تھے۔ ان کے کلینڈر کے مطابق اس چوتھے عہد کو ہمارے آج کے کلینڈر کے حساب سے سن دو ہزار بارہ میں ختم ہوجانا ہے اور اس کے بعد دنیا کا آخری اور پانچواں عہد شروع ہوگا اور اس کے ختم ہونے پر نسل انسانی ختم ہوجائے گی۔

مایا تہذیب کا کلینڈر اور علم فلکیات اور کاسمولوجی کے بارے میں ان کی تحقیق اتنا دلچسپ موضوع ہے کہ اس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ اگر آپ حضرات کو مزید جاننے کا شوق ہو تو مندرجہ ذیل روابط مددگار ثابت ہونگے۔

(نوٹ ذیل میں دئیے گئے تمام روابط انگریزی میں ہیں۔)

مایا شہر اور ذراعت

Friday, November 25, 2005
posted by Noumaan

مایا شہر

مایا تہذیب کے دوسرے کلاسیکی دور میں مایا قوم نے زبردست ترقی کی۔ اس دور میں انہوں نے شہر بسائے۔ ان میں سے بہت سے شہر بے حد گنجان آباد تھے۔ مثال کے طور پر ٹکل شہر صرف چھ اسکوائر میل پر پھیلا تھا اور اس میں دس ہزار کے لگ بھگ مندر، رہائشی یونٹ، اور اہرام تعمیر تھے۔ اس شہر کی آبادی ساٹھ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اس وقت پوری دنیا میں کسی شہر میں اتنی گنجان آبادی نہیں تھی۔




مایا قوم اپنے دوسرے کلاسیکی دور کے آغاز میں ایک موروثی بادشاہی نظام اپنا لیتی ہے۔ اس تہذیب کے لوگ یوٹکان کے علاقے میں کئی ریاستیں قائم کرتے ہیں۔ ہر ریاست کا ایک بادشاہ ہوتا تھا۔ اور بادشاہ کی رہائش ریاست کے مرکزی شہر میں ہوتی تھی۔ ریاست کے چہار طرف دیہی آبادی بستی تھی جو کہ ماہر کاشتکار تھے ان کی ذرعی مہارت پر آگے بات ہوگی۔ بڑے ذرعی یا دیہی علاقوں کے بیچ میں شہری آبادیاں ہوتی تھیں۔ شہر کو عموما ڈھلوانوں کی ایک سیریز میں بنایا جاتا تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورا علاقہ برساتی جنگلات پر مشتمل تھا اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو شہری آبادیاں سیوریج کے مسئلے سے بالکل مفلوج ہوجاتیں۔ بلند مقامات پر اہم عمارتیں مثلا مندر، اہرام، بال گیم کھیلنے کے میدان، شاہی رہائش گاہیں اور اجرام فلکی کا مطالعہ کرنے کے لئیے مشاہدہ گاہیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ اس کے بعد رہاشی یونٹ ہوتے تھے جو شہر کے آخری سرے تک جاتے تھے جہاں سے آگے پھر ذرعی علاقہ شروع ہوتا تھا۔



شہر میں تعمیرات کے لئیے کوئی خاص منصوبہ بندی نہ ہوتی تھی۔ سوائے ڈھلوان کے باقی تعمیرات میں گرڈ سسٹم کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا تھا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان شہروں کی گزرگاہیں پرپیچ رہی ہوں گی خصوصا ٹکل جیسے بڑوں شہروں میں۔ شہروں کی کوئی باقاعدہ حدبندی نہ ہوتی تھی اور سوائے چند ایک آثار کے تقریبا تمام شہروں کے گرد کوئی فصیل یا قلعہ نہیں ہوتا تھا۔ یہ لوگ عمارتیں بنانے کے لئیے چونا اور چونے کے پتھروں کا استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے چونے سے سیمنٹ جیسا ایک میٹریل تیار کیا تھا جو بڑی تعمیرات میں استعمال ہوتا تھا۔ ان تعمیرات میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کی تعمیر میں کسی قسم کے دھاتی اوزار کا استعمال نہیں ہوا۔ ان تعمیرات کے لئیے بہت زیادہ افرادی قوت کی ضرورت تھی جو ان شہروں میں وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔ ان عمارتوں کی تعمیر ڈیکوریشن، آرائش اور آرٹ کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ دیواروں پر پینٹینگز بنائی جاتی تھیں انہیں رنگ کیا جاتا تھا۔



ذراعت:

خوراک کے لئیے مایا تہذیب کا انحصار ذراعت پر تھا۔ یہ لوگ ماہر کاشتکار تھے۔ ان لوگوں نے کاشتکاری کے لئیے زیادہ تر جو تکنیک اپنائی اسے سلیش اینڈ برن کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں جنگل کا ایک رقبہ کاشتکاری کے لئیے درختوں سے صاف کردیا جاتا تھا۔ اس کے چند ہفتوں بعد وہاں موجود جنگی پھلوں کو جلادیا جاتا تھا جس سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا تھا۔ بعدازاں اس جگہ پر کاشتکاری کی جاتی تھی۔ تاہم یہ طریقہ ذراعت ہی ان کے لئیے خوراک کا اہم ذریعہ نہیں تھا۔ جہاں مناسب زمین ملی وہاں مایا قوم نے مستقل بنیادوں پر کاشتکاری بھی کی اور کئی مقامات پر بڑے رقبوں کو مستقل کاشتکاری کے لئیے تیار کیا گیا۔ اس کے علاوہ گھنے جنگلوں میں انہوں نے بڑے رقبوں پر پھلوں کے باغات تیار کئیے۔ دیگر کئی طرح کی کاشتکاری کے شواہد بھی ملے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مکئی، سورج مکھی کے بیج، کاٹن وغیرہ کی فصلیں تیار کرتے تھے۔ کلاسیکی دور میں مایا لوگ ذراعت کے لئیے مختلف علاقوں میں وہاں کے موسم، آپ و ہوا اور اپنی آبادی کے لحاظ سے کاشتکاری کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی ماہرین اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ ہوسکتا ہے خوراک کی قلت کے سبب مایا تہذیب کو اپنے عظیم الشان شہر چھوڑ کر جانا پڑا ہو؟

علم فلکیات، ریاضی اور کاسمولوجی کے بارے میں مایا قوم کی تحقیق، اور مایا کلینڈر ہماری اگلی پوسٹ کا موضوع ہوگا۔

مایا تہذیب

Thursday, November 24, 2005
posted by Noumaan

مایا تہذیب ایک قدیم میسوامیریکن تہذیب ہے جو شمال وسطی امریکہ میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس علاقے میں آجکل میکسیکو، ہنڈارس، بیلیز اور گوئٹے مالا کی ریاستیں موجود ہیں۔ (تصویر نمبر ایک)

مایا تہذیب کے جو آثار ملے ہیں، یا ایسے آثار جنہیں مایا تہذیب سے موسوم کیا جاتا ہے وہ ایک ہزار قبل مسیح تک پائے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم پچھلی پوسٹ میں ذکر کرچکے ہیں کہ امریکا میں انسان بہت پہلے آچکا تھا۔ میسوامیریکن علاقے میں قدیم ترین انسانی موجودگی کے شواہد دس ہزار سال قبل مسیح تک اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن مایا تہذیب کا آغاز ایک ہزار سال قبل مسیح کے آس پاس ہوا۔ زیادہ مضبوط شواہد چھ سو قبل مسیح کو مایا تہذیب کے عروج کا نقطہ آغاز بتاتے ہیں۔ اس دور میں ابتدائی مایا تعمیرات کے آثار ملے ہیں۔ لیکن یقینا مایا تہذیب اس سے بہت پہلے شروع ہوئی اور ان کے معاشرتی تمدن کی رفتار خاصی تیز رہی اور چار سو سال میں انہوں نے قابل ذکر ترقی کی۔

مایا تہذیب کا دوسرا دور دو سو پچاس عیسویں سے نو سو عیسویں تک پھیلا ہوا ہے۔ جس دوران انہوں نے بڑے علاقوں میں شہری تعمیرات کی۔ اسی دور میں انہوں نے یادگاری تحریریں چھوڑیں اور اسی دور میں انہوں نے اپنی تہذیب اور تمدن کو باقاعدہ ریکارڈ کیا۔ لیکن پھر اچانک وہ سب کچھ یوں ہی چھوڑ کر کہیں چلے گئے۔ کہاں اس بارے میں تو کچھ کہا جاسکتا ہے مگر کیوں؟ اس بارے میں ابھی بھی بحث جاری ہے۔ مایا قوم کا ترقیاتی سفر اس دور کے بعد بھی جاری رہا اور ان کی تعمیرات اور تمدنی اثرات پورے یوٹکاں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی تہذیبی اور ثقافتی برتری نے اردگرد کی دیگر میسوامیریکن اقوام کو بھی متاثر کیا۔ لیکن ان اثرات کے پھیلنے کی وجہ تجارت اور کلچر رہی ہیں مایا قوم نے دیگر اقوام کو بزور طاقت فتح کرنے کی کوئی قابل ذکر سعی نہیں کی۔

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ ہسپانوی نوآبادکار ان علاقوں میں پہنچی اور مایا تہذیب کو بزور طاقت زوال پذیر ہونے پر مجبور کیا گیا۔ مایا اقوام کے صحائف ڈھونڈ ڈھونڈ کر جلائے گئے، ان کی تعمیرات کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی زبان اور مذہبی رسومات کو شیطانی قرار دے دیا گیا۔

مایا تہذیب زوال پذیر ہوئی مگر مایا لوگ آج بھی میسو امریکن علاقوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سارے لوگ ابھی بھی مایا مذہب کی بہت سی رسومات پر عمل کرتے ہیں گرچہ ان میں سے زیادہ تر لوگ رومن کیتھولک مذہب اختیار کرچکے ہیں۔ آج بھی ایسے مایا لوگ موجود ہیں جو کوئی نہ کوئی مایا زبان بولتے ہیں۔

مایا تہذیب علاقے کی دیگر اقوام سے یوں ممتاز تھی کہ انہوں نے بہت پہلے لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ان کا اپنا طرز تحریر تھا۔ اس کے علاوہ ریاضی میں بھی ان کی ترقی حیرت انگیز تھی نہ صرف یہ کہ انہوں نے نمبروں کو لکھنا سیکھ لیا تھا بلکہ یہ صفر کے استعمال سے بھی واقف تھے (دیکھئیے تصویر نمبر دو)۔ فلکیات، طبیعیات، جراحت اور ذراعت میں ان کی ترقی حیران کن اسلئیے بھی تھی کیونکہ ان کا پرانی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا جہاں ان میدانوں میں اسی دور میں کام جاری تھا۔

میری اگلی پوسٹ میں مایا تہذیب کی آرٹ، آرکیٹیکچر، ذراعت اور فلکیات کے میدانوں میں کوششوں کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا۔ ہم ان قیاس آرائیوں پر بھی بات کریں گے جو اس بات پر بحث کرتی ہیں کہ مایا قوم اپنے بسے بسائے شہر چھوڑ کر اچانک کیوں چلے گئے۔

تصویر نمبر ایک:


تصویر نمبر دو:


مزید معلومات کے لئیے ویکیپیڈیا پر مایا ذرائع دیکھیں خصوصا بیرونی لنکس پر کلک کریں وہاں بہت ساری تصاویر بھی ہیں جن مایا تہذیب کے بنائے ہوئے مندر اور اہراموں کی تصاویر بھی ہیں۔